Skip to main content

[ad_1]

سلمان احمد شیخ

ایکویٹی فائنانسنگ کو قرض پر مبنی فائنانسنگ کے مقابلے میں زیادہ منصفانہ اور اسلامی اصولوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص سرمایہ کاری پر کچھ منافع حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسلام قرض کے بجاۓ ایکویٹی فائنانسنگ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ اسلامی فقہ میں قرض ایک ایسا معاہدہ ہے جسے نفع حاصل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

ایکویٹی فائنانسنگ میں منافع کا تعلق براہ راست پیداواری سرگرمی کے منافع بخش ہونے سے ہوتا ہے۔ تمام سرمایہ کاروں کے لیےمنافع میں یکساں مواقع ہوتے ہیں۔ تقسیم منافع کے طریقہ کار پر ان کے درمیان شروع میں ہی اتفاق کرلیا گیا ہوتا ہے۔ تمام سرمایہ دار اپنے آزاد انتخاب سے اپنی مرضی کے مطابق ایکویٹی انویسٹمنٹ کرتے ہیں۔

اسلامی اقتصادی نظام میں سرمائے کا کوئی مقررہ معاوضہ نہیں ہے۔ لہذا، پیداوار کے عمل سے پیدا ہونے والے حقیقی منافع میں سرمایہ کو اپنا حصہ مل سکتا ہے مگر جس کے لیے ضروری ہے کہ سرمایہ نفع نقصان میں شامل ہو۔ اس سے پیداواری سرگرمیوں مں سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور سرمایہ کاری کے نفع بخش ہونے کے لیے صرف ایک فریق یعنی قرض دار ہی نہیں بلکہ تمام سرمایہ دار مل کر سرمایہ کاری کے نفع بخش ہونے کے لیے محنت اور جدوجہد کرتے ہیں۔ اس سے آمدنی کے ساتھ ساتھ دولت کی تقسیم پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انفرادی پروجیکٹس میں ہوسکتا ہے کہ مخصوص مدت کے لیے نقصانات کا سامنا کرنا پڑے۔ لیکن مجموعی طور پر تمام سرمایہ کاری پر مبنی پورٹ فولیو پر امکان ہے کہ صافی طور پر منافع ہی ہوگا طویل مدت میں۔ کچھ پروجیکٹس پر نقصان ہوگا تو اکثر میں منافع ہوگا۔ پھر سرمایہ کاری کچھ عرصہ کے بعد زیادہ ان ہی شعبوں کی طرف رخ کرے گی جو زیادہ نفع کا امکان رکھتے ہیں اور جن میں نقصان کا امکان کم ہوگا۔

اسلامی بینک اگر مضاربہ اور مشارکہ کو اپنائیں تو وہ اس پورٹ فولیو کو چلانے کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں۔ اپنی اصل اور نوعیت کے لحاظ سے ان کا کام قریب قریب وہی ہوگا جیسا وینچر کیپیٹل فنڈز کا ہوتا ہے۔

چونکہ اسلامی مالیات میں کوئی مقررہ معاوضہ سود کی طرح نہیں ہوتا اور جب کہ فاضل دولت پر زکوۃ بھی لاگو ہوتی ہے تو کسی بھی شخص کو نفع کی نیت سے مال پر منافع حاصل کرنے کے لیے اسے پیداواری سرگرمی میں لگانا لازم ہوگا۔ اس سے پیداوار اور روزگار دونوں مں اضافہ ہوگا۔ اس طرح سے غربت کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

حقیقی منافع میں متناسب حصہ داری سے اس صورت حال کا سدباب کیاجاسکتا ہے کہ کسی کااستحصال ہو۔ سودی قرض میں ایک طرف تو ایک فریق کے لیے آمدنی میں سود کی شرح سے لازمی اضافہ ہوتا ہے جب کہ دوسرے فریق کے لیے آمدنی میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے اور الٹا کمی بھی۔ مگر جب دونوں فریقوں کی آمدنی میں اضافہ یا کمی ایک ساتھ اور متناسب حصہ سے ہوگی تو اس سے دولت کی تقسیم پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

اسلامی اصولوں کے مطابق مالی نقصان میں حصہ داری سرمایہ کاری کی نسبت سے ہونی چاہیے ہے۔ اس سے نقصان کو برداشت کرنے کی زیادہ ذمہ داری اس فریق پر پڑتی ہے جس کو اسے برداشت کرنے کی سکت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

چنانچہ اسلامی مالیاتی نظام کے اندر سرمایہ داری نظام میں پنہاں استحصال کا سدباب ایک ایسے منصفانہ طریقہ سے کیا جاتا ہے جس سے محنت کو اس کا حصہ بھی ملے, اس کا بے جا استحصال بھی نہ ہو اور منافع کا محرک بھی بالکلیہ ختم نہ ہوجاتا ہو۔

[ad_2]
Source link

Leave a Reply